زکوٰۃ کیلکولیٹر: سونے اور چاندی کا نصاب
زکوٰۃ آپ کے مال میں ایک مقرر حق ہے۔ یہاں روپوں میں اس کا تخمینہ لگائیں، پھر کسی ایسے عالم سے تصدیق کر لیں جن پر آپ کو اعتماد ہو۔ جہاں علما کی رائے مختلف ہے، وہاں ہم دونوں آراء ان کے قائلین کے نام کے ساتھ دکھاتے ہیں۔ آپ کے لیے انتخاب ہم کبھی نہیں کرتے۔
یہ کیلکولیٹر کیسے کام کرتا ہے؟
- شرح: قابلِ زکوٰۃ مال کا 2.5% (چالیسواں حصہ)، جب وہ نصاب سے اوپر رہتے ہوئے ایک قمری سال پورا کر لے۔
- دونوں نصاب ساتھ ساتھ: سونے کا نصاب 85 گرام خالص سونا ہے، جو 20 مثقال کی عام جدید تبدیلی ہے۔
- چاندی کا نصاب 595 گرام خالص چاندی ہے، جو 200 درہم کی عام جدید تبدیلی ہے۔
- تولے کا حساب: برصغیر کی حنفی کتابوں میں نصاب تولے میں لکھا جاتا ہے: سونا ساڑھے سات تولہ اور چاندی ساڑھے باون تولہ۔ ایک تولہ 11.664 گرام کا ہو تو یہ 87.48 گرام سونا اور 612.36 گرام چاندی بنتے ہیں، یعنی اوپر والے گرام سے تقریباً 3% زیادہ۔ اگر آپ کا مال نصاب کی حد کے بالکل قریب ہو تو تولے والا نصاب بھی دیکھ لیں اور اپنے عالم سے پوچھیں۔
- کون سا نصاب؟ چاندی کا نصاب کم ہے، اس لیے زیادہ لوگ اس تک پہنچتے ہیں، اور بہت سے علما اسے غریبوں کے لیے زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں؛ برصغیر کے حنفی فتاویٰ میں نقد رقم کے لیے عموماً یہی لیا جاتا ہے۔ بہت سے معاصر علما، جن میں علامہ یوسف القرضاوی شامل ہیں، سونے کا نصاب لیتے ہیں۔ آپ جس عالم کی پیروی کرتے ہیں ان سے پوچھیں۔
- قیراط کے حساب سے سونا: گرام × قیراط ÷ 24 = خالص سونا۔ 100 گرام 22 قیراط = 91.67 گرام خالص۔
- قرض: اگلے 12 مہینوں میں واجب الادا قرض پہلے منہا کیا جاتا ہے۔ یہ ایک معاصر رائے ہے؛ قرض کے بارے میں مذاہب کی آراء مختلف ہیں، اس لیے اپنے عالم سے پوچھیں۔
- شمار نہیں ہوتے: رہائشی مکان، گاڑی، گھریلو سامان اور کام کے اوزار؛ ملازمت ختم ہونے کی وہ رقم جو ابھی ملی نہیں (بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی، قرارداد 143، شق 6 (الف))؛ وہ پنشن جو ابھی نکلوائی نہیں جا سکتی؛ بینک کا سود (علما اسے رفاہِ عامہ میں دینے کو کہتے ہیں، مگر وہ زکوٰۃ نہیں)۔
سونے کا نصاب: 85 × 35,763 = 3,039,855 روپے۔ چاندی کا نصاب: 595 × 468 = 278,460 روپے؛ ساڑھے باون تولے کے حساب سے تقریباً 286,584 روپے۔
بچت 500,000 روپے، کوئی قرض نہیں۔ چاندی کے نصاب پر: نصاب پورا ہے، زکوٰۃ 500,000 × 2.5% = 12,500 روپے۔ سونے کے نصاب پر: نصاب سے کم، کچھ نہیں۔
یہ مثال کی قیمتیں ہیں۔ قیمتیں روز بدلتی ہیں، اور کیلکولیٹر کی حوالہ قیمت ہر بار سائٹ کی تازہ کاری پر بدلتی ہے، اس لیے مختلف ہو سکتی ہے: آج کی قیمت خود درج کریں۔ اسی 500,000 روپے پر بینک کٹوتی نہیں کرے گا، کیونکہ کٹوتی کی سرکاری حد 503,529 روپے ہے (نیچے دیکھیں): کٹوتی نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ زکوٰۃ واجب نہیں۔
سونے کا نصاب: 85 × 12,307 = ₹1,046,095۔ چاندی کا نصاب: 595 × 161 = ₹95,795۔ بچت ₹200,000 ہو تو چاندی کے نصاب پر زکوٰۃ ₹5,000، سونے کے نصاب پر کچھ نہیں۔ بھارت میں حکومت زکوٰۃ نہیں کاٹتی؛ حساب اور ادائیگی آپ خود کرتے ہیں۔
پاکستان: بینک سے زکوٰۃ کی کٹوتی کیسے ہوتی ہے؟
پاکستان میں زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت بینک یکم رمضان کو بعض کھاتوں سے زکوٰۃ خود کاٹ لیتے ہیں۔ یہ ایک سرکاری انتظام ہے؛ ہم اسے یہاں بغیر کسی رائے کے، سرکاری کاغذات کے مطابق، بیان کر رہے ہیں۔
- نصاب 1446-1447ھ: وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کے 16 فروری 2026 کے خط (نمبر CE-1001(36)/NISAB/1446-47/2026-48) کے مطابق، ایڈمنسٹریٹر جنرل زکوٰۃ نے اس سال کا نصاب 503,529 روپے مقرر کیا۔ یہ خط اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بی پی آر ڈی سرکلر لیٹر نمبر 3 (2026) کے ساتھ جاری کیا۔
- کن کھاتوں سے: خط کے مطابق سیونگ بینک، نفع و نقصان میں شراکت (پی ایل ایس) اور ان جیسے کھاتوں سے، جن کا بیلنس کٹوتی کی تاریخ پر 503,529 روپے یا اس سے زیادہ ہو۔ اس سے کم بیلنس پر کٹوتی نہیں ہوتی۔
- کٹوتی کی تاریخ: یکم رمضان المبارک 1447ھ، جو خط کے مطابق 19 یا 20 فروری 2026 کو متوقع تھی (چاند نظر آنے پر منحصر)۔ کاٹی گئی رقم اسٹیٹ بینک میں مرکزی زکوٰۃ فنڈ کے کھاتے CZ-08 میں جاتی ہے۔
- شرح: ایک بڑے بینک (الائیڈ بینک) کے مطابق شرح 2.5% ہے اور یہ پورے قابلِ کٹوتی بیلنس پر لگتی ہے، صرف نصاب سے اوپر والے حصے پر نہیں۔
- استثنا (فارم CZ-50): الائیڈ بینک کے مطابق جو شخص اپنی فقہ کی بنیاد پر لازمی کٹوتی کو اپنے لیے درست نہیں سمجھتا، یا اپنی زکوٰۃ خود ادا کرنا چاہتا ہے، وہ زکوٰۃ ڈیکلریشن فارم CZ-50 جمع کراتا ہے: اصل فارم، نوٹری پبلک سے تصدیق شدہ، کٹوتی کی متوقع تاریخ سے کم از کم 30 دن پہلے۔ ہر بینک کی آخری تاریخ اپنی ہوتی ہے، اس لیے اپنی برانچ سے اسی سال کی تاریخ پوچھیں۔
تین باتیں جو اکثر رہ جاتی ہیں۔ پہلی: یہ 503,529 روپے کٹوتی کی سرکاری حد ہے؛ آپ کی اپنی زکوٰۃ کا نصاب آپ کا پورا مال دیکھ کر سونے یا چاندی سے طے ہوتا ہے، جیسا اوپر کی مثال میں ہے۔ دوسری: کٹوتی صرف ان کھاتوں پر ہوتی ہے؛ سونا، نقدی، کرنٹ اکاؤنٹ، کاروبار اور دوسرا مال اس میں شامل نہیں، ان کا حساب آپ کو خود کرنا ہے۔ تیسری: کٹی ہوئی رقم آپ کی زکوٰۃ میں کس حد تک شمار ہو، اس میں علما کی آراء مختلف ہیں؛ اپنے عالم سے پوچھیں، اور اپنی زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت بینک کی کٹوتی کی رسید سامنے رکھیں۔
تفصیلی رہنمائی کے لیے زکوٰۃ کا حساب، قدم بہ قدم، سونے پر زکوٰۃ اور صدقہ اور زکوٰۃ میں فرق پڑھیں۔
یہ صفحہ کیا نہیں کرتا
یہ صفحہ فتویٰ نہیں دیتا۔ یہ فقہِ جعفریہ کے مطابق خمس کا حساب نہیں کرتا۔ یہ کوئی رقم نہ جمع کرتا ہے، نہ رکھتا ہے، نہ آگے پہنچاتا ہے، اور اس پر کوئی اشتہار نہیں۔ آپ کے درج کیے ہوئے اعداد آپ کے براؤزر ہی میں رہتے ہیں۔
مکمل اطلاع
مستحقات معلومات کے لیے مفت آلات فراہم کرتا ہے۔ ہم معتبر اداروں (بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی، ایوفی AAOIFI اور سرکاری فتویٰ کونسلوں) کی شائع شدہ آراء کی پیروی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کہاں علما کا اختلاف ہے۔ ہم فتویٰ جاری نہیں کرتے اور زکوٰۃ جمع یا تقسیم نہیں کرتے۔ آپ کے اپنے حالات سے نتیجہ بدل سکتا ہے۔ کسی ایسے عالم سے پوچھیں جن پر آپ کو اعتماد ہو، اور اگر آپ کے ملک میں سرکاری زکوٰۃ نظام ہے تو اس کے قواعد دیکھیں۔ دھاتوں کی حوالہ قیمت درج شدہ تاریخ کی عالمی قیمت ہے؛ آپ کی درج کی ہوئی قیمت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
مستحقات رقم جمع نہیں کرتا۔ ہم نہ کبھی آپ کی زکوٰۃ اپنے پاس رکھتے ہیں، نہ اس پر کوئی فیس لیتے ہیں، نہ اسے آگے پہنچاتے ہیں۔ اپنی زکوٰۃ براہِ راست کسی سرکاری یا معتبر ادارے کو، اس کی اپنی ویب سائٹ یا دفتر کے ذریعے، یا خود مستحقین کو دیں۔
زکوٰۃ کیا ہے؟
زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے، کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اور آپ ﷺ نے ان میں زکوٰۃ ادا کرنے کو کلمۂ شہادت، نماز، حج اور رمضان کے روزوں کے ساتھ ذکر فرمایا (صحیح بخاری 8؛ صحیح مسلم 16)۔
عربی لفظ «زکاۃ» میں دو معنی ایک ساتھ ہیں: پاکیزگی اور بڑھوتری۔ قرآن ایک ہی آیت میں دونوں کا ذکر کرتا ہے:
﴿خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ [التوبة: 103]
ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیے جس سے آپ انہیں پاک کریں اور ان (کی نیکیوں) کو بڑھائیں، اور ان کے لیے دعا کیجیے؛ بے شک آپ کی دعا ان کے لیے سکون ہے، اور اللہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے (سورۃ التوبہ 9:103، مفہوم، مستحقات کے اپنے الفاظ میں)۔ یہ آیت ان چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا؛ اکثر مفسرین اسے عمومی طور پر زکوٰۃ پر لاگو کرتے ہیں (طبری؛ ابنِ کثیر)۔
جب نبی ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے، کہ زکوٰۃ ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہی کے فقیروں کو لوٹائی جائے گی (صحیح بخاری 1395؛ صحیح مسلم 19)۔ اس لیے زکوٰۃ لینے والا کسی کا احسان نہیں لے رہا: وہ اپنا وہ حق لے رہا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔ «مستحقات» کا مطلب بھی یہی ہے: وہ حقوق جو کسی کے واجب ہیں۔
زکوٰۃ کے حق دار کون ہیں؟ آٹھ مصارف
﴿۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَـٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [التوبة: 60]
زکوٰۃ تو صرف فقیروں، مسکینوں، اس کے کام پر مقرر کارکنوں، ان لوگوں کے لیے ہے جن کے دل جوڑنے ہوں، گردنیں چھڑانے میں، قرض داروں کے لیے، اللہ کی راہ میں، اور مسافر کے لیے: یہ اللہ کی طرف سے مقرر فریضہ ہے، اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے (سورۃ التوبہ 9:60، مفہوم، مستحقات کے اپنے الفاظ میں)۔
ہر مصرف کی تفصیل میں مذاہب کا اختلاف ہے۔ مثلاً «مؤلفۃ القلوب» کا حصہ: احناف کے نزدیک یہ نبی ﷺ کے زمانے کے بعد ختم ہو گیا؛ مالکیہ (مشہور قول، خلیل) اور حنابلہ کے نزدیک ضرورت ہو تو باقی ہے اور غیر مسلم کو بھی شامل کر سکتا ہے؛ شافعیہ کے نزدیک باقی ہے مگر صرف مسلمانوں کے لیے۔ اکثر فقہا کے نزدیک زکوٰۃ ضرورت مند مسلمان ہی کو دی جاتی ہے۔ ہم فیصلہ نہیں دیتے؛ کسی معتبر عالم سے پوچھیں۔
صدقہ: تہذیبوں کے درمیان ایک پل
زکوٰۃ مسلمان پر فرض ہے۔ نیکی کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ مسلمان زکوٰۃ بھی دیتا ہے اور صدقہ بھی۔ اگر آپ مسلمان نہیں اور اسی مقصد سے متاثر ہیں تو آپ بھی فقیروں، مسکینوں، قرض کے بوجھ تلے دبے لوگوں اور بے سہارا مسافروں کو دے سکتے ہیں۔ ایسا دینا صدقہ ہے: اپنی خوشی سے دی گئی عطا، جس کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ ہم اسے کبھی زکوٰۃ نہیں کہتے۔ تفصیل کے لیے صدقہ اور زکوٰۃ میں فرق دیکھیں۔
ہر تہذیب اپنی بہترین چیز ایک ہی دسترخوان پر لاتی ہے: کوئی ناپا تولا فرض لاتا ہے، کوئی بے حساب فیاضی۔ اسی دسترخوان پر لوگ ایک دوسرے کو سمجھنا سیکھتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
﴿لَّا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَـٰرِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوٓا۟ إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ﴾ [الممتحنة: 8]
اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا؛ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (سورۃ الممتحنہ 60:8، مفہوم، مستحقات کے اپنے الفاظ میں)۔ نفلی صدقہ ہر اس ضرورت مند کو دیا جا سکتا ہے جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ نہ ہو؛ یہ رائے مذاہب میں وسیع طور پر اختیار کی گئی ہے (امام نووی، المجموع؛ ابنِ قدامہ، المغنی)۔
ماخذ (جانچ: 29 اکتوبر 2026)
- قرآن 9:60، 9:103، 60:8۔ عربی متن: تنزیل قرآن ٹیکسٹ (عثمانی)، بغیر کسی تبدیلی کے، tanzil.net سے (Creative Commons Attribution 3.0)۔ اردو مفہوم مستحقات کے اپنے الفاظ میں ہے، کوئی شائع شدہ ترجمہ نہیں۔
- صحیح بخاری 8 اور صحیح مسلم 16 (ارکانِ اسلام)؛ صحیح بخاری 1395 اور صحیح مسلم 19 (حضرت معاذ کا یمن بھیجا جانا)۔
- وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ، حکومتِ پاکستان، خط نمبر CE-1001(36)/NISAB/1446-47/2026-48، 16 فروری 2026، بنام اسٹیٹ بینک آف پاکستان: نصابِ زکوٰۃ 1446-1447ھ، 503,529 روپے (PDF)؛ اسٹیٹ بینک کا بی پی آر ڈی سرکلر لیٹر نمبر 3 (2026)۔ 29 اکتوبر 2026 کو پڑھا گیا۔
- الائیڈ بینک، بینک ڈپازٹس پر زکوٰۃ (انگریزی): شرح، فارم CZ-50 اور اس کی آخری تاریخ، ایک بینک کے اپنے قواعد کے طور پر؛ 29 اکتوبر 2026 کو پڑھا گیا۔
- بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی، قرارداد 143 (1/16)، دبئی، اپریل 2005 (عربی): ملازمت کے اختتام کی رقم اور پنشن، شق 6 (الف تا د)۔ قرارداد 1 (2/1)، 1985: وصول طلب قرض۔
- فقہ: ابنِ قدامہ، المغنی (حنبلی، تقابلی فقہ)؛ امام نووی، المجموع (شافعی)؛ ابنِ عابدین، رد المحتار (حنفی)؛ خلیل، المختصر (مالکی)؛ یوسف القرضاوی، فقہ الزکاۃ۔ تفسیر: طبری اور ابنِ کثیر، 9:103۔
مذکورہ ماخذ سے مرتب کیا گیا؛ اپنے معاملے میں کسی ایسے عالم سے پوچھیں جن پر آپ کو اعتماد ہو۔ یہ فتویٰ نہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھا گیا اور درج ماخذ سے جانچا گیا۔ سامی ادہم ایک پیشہ ورانہ نام ہے؛ وہ عالم یا مفتی نہیں۔ آپ کے ملک کا سرکاری زکوٰۃ ادارہ بھی آپ کی زکوٰۃ کے بارے میں سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔

سونے کا نصاب یا چاندی کا: کون سا لیا جائے؟
اس میں علما کا اختلاف ہے۔ چاندی کا نصاب (595 گرام، یا ساڑھے باون تولے کے حساب سے 612.36 گرام) کم ہے اور بہت سے علما اسے غریبوں کے لیے زیادہ مفید سمجھتے ہیں؛ بہت سے معاصر علما سونے کا نصاب (85 گرام، یا ساڑھے سات تولے کے حساب سے 87.48 گرام) لیتے ہیں۔ اگر سارا مال سونا ہو تو سونے کا نصاب، اور سارا چاندی ہو تو چاندی کا نصاب معتبر ہے۔ اگر دونوں ہوں تو احناف اور مالکیہ (اور حنابلہ کی ایک روایت) نصاب پورا کرنے کے لیے دونوں کو ملاتے ہیں؛ شافعیہ نہیں ملاتے۔ ہم دونوں نصاب دکھاتے ہیں؛ اپنے عالم سے پوچھیں کہ آپ کس پر عمل کریں۔
بینک نے زکوٰۃ کاٹ لی تو کیا میری زکوٰۃ ادا ہو گئی؟
کٹوتی صرف سیونگ، پی ایل ایس اور ان جیسے کھاتوں پر ہوتی ہے جن کا بیلنس یکم رمضان کو سرکاری حد (1446-1447ھ میں 503,529 روپے) یا اس سے زیادہ ہو۔ آپ کا باقی مال، جیسے سونا، نقدی اور کاروبار، اس میں شامل نہیں؛ اس کا حساب آپ کو خود کرنا ہے۔ کٹی ہوئی رقم آپ کی زکوٰۃ میں کس حد تک شمار ہو، اس میں علما کی آراء مختلف ہیں؛ اپنے عالم سے پوچھیں۔ سرکاری خط: اسٹیٹ بینک سرکلر۔
کیا پہنے جانے والے زیور پر زکوٰۃ ہے؟
اس میں علما کا اختلاف ہے۔ احناف اسے شمار کرتے ہیں، اور برصغیر میں عام طور پر اسی پر عمل ہوتا ہے۔ جمہور علما (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ) عام جائز استعمال کے زیور کو شمار نہیں کرتے۔ بچت کے طور پر رکھا گیا زیور سب کے نزدیک شمار ہوتا ہے۔ یہ کیلکولیٹر دونوں نتیجے دکھا سکتا ہے۔
کیا مستحقات زکوٰۃ جمع کرتا ہے؟
نہیں۔ ہم کبھی زکوٰۃ یا کوئی رقم وصول نہیں کرتے، نہ اپنے پاس رکھتے ہیں، نہ آگے پہنچاتے ہیں۔ اپنی زکوٰۃ براہِ راست کسی سرکاری یا معتبر ادارے کو، یا خود مستحقین کو دیں۔