صدقہ اور زکوٰۃ میں فرق، اور کیا ہر کوئی صدقہ دے سکتا ہے؟
صدقہ اور زکوٰۃ ایک ہی گھر کے دو دروازے ہیں۔ زکوٰۃ وہ دروازہ ہے جس کی چوکھٹ ناپ کر بنائی گئی: مقرر شرح، مقرر وقت، مقرر حق دار۔ صدقہ وہ دروازہ ہے جو ہر وقت کھلا رہتا ہے، اور جس سے ہر کوئی گزر سکتا ہے۔
مختصر جواب: زکوٰۃ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جس کا مال نصاب کو پہنچے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے؛ اس کی شرح 2.5% ہے اور اس کے حق دار آٹھ مقرر مصارف ہیں۔ صدقہ اختیاری ہے: کوئی بھی مقدار، کسی بھی وقت، کسی بھی ضرورت مند کو۔ مسلمان دونوں دیتے ہیں۔ صدقہ ہر کوئی دے سکتا ہے، چاہے اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔
پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ ہمارا مفت زکوٰۃ کیلکولیٹر روپوں میں دونوں نصاب ساتھ ساتھ دکھاتا ہے۔
ایک نظر میں فرق
| زکوٰۃ | صدقہ | |
|---|---|---|
| حکم | فرض، اسلام کا ایک رکن | اختیاری، اپنی خوشی سے |
| کون دیتا ہے | وہ مسلمان جس کا مال نصاب کو پہنچے | ہر کوئی، کسی بھی عقیدے کا |
| کتنا | قابلِ زکوٰۃ مال کا 2.5% | کوئی بھی مقدار؛ بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے |
| کب | ہر قمری سال، اپنی مقرر تاریخ پر | کسی بھی وقت |
| کسے | قرآن کے آٹھ مصارف (التوبہ 9:60) | کسی بھی ضرورت مند کو |
| نام | صرف مسلمان کی فرض ادائیگی | غیر مسلم کی عطا بھی صدقہ کہلاتی ہے |
صدقۂ فطر (فطرانہ) ایک الگ چیز ہے: یہ عید الفطر سے پہلے ادا کیا جاتا ہے اور اس کے اپنے احکام ہیں۔
زکوٰۃ: ناپا تولا حق
زکوٰۃ کے حق دار قرآن نے خود گنوائے ہیں: فقیر، مسکین، زکوٰۃ کے کارکن، وہ جن کے دل جوڑنے ہوں، گردنیں چھڑانا، قرض دار، اللہ کی راہ، اور مسافر (التوبہ 9:60)۔ اس لیے زکوٰۃ لینے والا احسان نہیں لیتا؛ وہ اپنا حق لیتا ہے۔ ہر مصرف کی تفصیل میں مذاہب کی آراء مختلف ہیں؛ اپنے عالم سے پوچھیں۔
پہلے فرض، پھر فضل۔ صدقے کا دروازہ کھولنے سے پہلے دیکھ لیں کہ زکوٰۃ کا حق ادا ہو گیا: زکوٰۃ کیلکولیٹر میں چند منٹ لگتے ہیں، اور کوئی عدد آپ کے فون یا کمپیوٹر سے باہر نہیں جاتا۔
صدقہ: کھلا دروازہ
صدقہ صرف پیسہ نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے، کہ ہر نیکی صدقہ ہے (صحیح بخاری 6021)۔ آپ ﷺ نے یہ بھی بتایا، جس کا مفہوم یہ ہے، کہ اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور بہترین صدقہ وہ ہے جو ضرورت پوری ہونے کے بعد دیا جائے (صحیح بخاری 1427)۔ چھپا کر دینے کی فضیلت میں آپ ﷺ نے اس شخص کا ذکر فرمایا جو اس طرح صدقہ دیتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی کہ دائیں ہاتھ نے کیا دیا (صحیح بخاری 1423)۔ پیاسے کتے کو پانی پلانے والے شخص کا واقعہ سنا کر آپ ﷺ نے بتایا، جس کا مفہوم یہ ہے، کہ ہر جاندار کے ساتھ بھلائی میں اجر ہے (صحیح بخاری 2363)۔ اور آپ ﷺ نے بتایا، جس کا مفہوم یہ ہے، کہ انسان کے مرنے کے بعد تین چیزوں کا فائدہ اسے پہنچتا رہتا ہے: صدقۂ جاریہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے (صحیح مسلم 1631)۔
قرآن ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو اپنی چاہت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (الانسان 76:8)۔
کیا غیر مسلم صدقہ دے سکتا ہے؟
جی ہاں۔ صدقہ، یعنی اپنی خوشی سے کی گئی نیکی کی عطا، ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ اگر آپ مسلمان نہیں اور فقیروں، مسکینوں، قرض کے بوجھ تلے دبے لوگوں یا بے سہارا مسافروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ صدقہ ہے۔ ہم اسے کبھی زکوٰۃ نہیں کہتے، کیونکہ زکوٰۃ مسلمان کی عبادت کا نام ہے۔ ہم کسی دینے والے سے کسی اجر کا وعدہ نہیں کرتے؛ یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اور مسلمان کا نفلی صدقہ ہر اس ضرورت مند کو دیا جا سکتا ہے جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ نہ ہو؛ یہ رائے مذاہب میں وسیع طور پر اختیار کی گئی ہے (امام نووی، المجموع؛ ابنِ قدامہ، المغنی)۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف سے نہیں روکتا (الممتحنہ 60:8)۔
تہذیبوں کے درمیان ایک پل
«صدقہ» کا مادہ ص د ق ہے، یعنی سچائی: دینا اس بات کی گواہی ہے کہ ایمان سچا ہے۔ عبرانی میں اسی کے ہم ریشہ سامی مادے سے «صِدقاہ» (tzedakah) ہے، جس کے معنی انصاف اور خیرات ہیں۔ ہر تہذیب اپنی بہترین چیز ایک ہی دسترخوان پر لاتی ہے: کوئی ناپا تولا فرض لاتا ہے، کوئی بے حساب فیاضی۔ ایک ہی بھوکا خاندان دونوں سے سیر ہوتا ہے، اور اسی دسترخوان پر لوگ ایک دوسرے کو سمجھنا سیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
اپنا حصہ جانیں
زکوٰۃ کا حق پہلے، صدقے کی فیاضی بعد میں: اپنی زکوٰۃ زکوٰۃ کیلکولیٹر میں معلوم کریں، پھر جتنا دل چاہے صدقہ دیں، براہِ راست کسی معتبر ادارے یا خود ضرورت مندوں کو۔
براہِ کرم نوٹ کریں
یہ مضمون صدقہ اور زکوٰۃ کے فرق کو عام معلومات کے لیے بیان کرتا ہے۔ یہ فتویٰ نہیں۔ اپنے حالات کے لیے کسی معتبر عالم یا اپنے ملک کے سرکاری زکوٰۃ ادارے سے پوچھیں۔ مستحقات نہ زکوٰۃ جمع کرتا ہے نہ صدقہ، اور نہ انہیں آگے پہنچاتا ہے۔
مذکورہ ماخذ سے مرتب کیا گیا؛ اپنے معاملے میں کسی ایسے عالم سے پوچھیں جن پر آپ کو اعتماد ہو۔ یہ فتویٰ نہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھا گیا اور درج ماخذ سے جانچا گیا۔ سامی ادہم ایک پیشہ ورانہ نام ہے؛ وہ عالم یا مفتی نہیں۔
مذکورہ احادیث
- صحیح بخاری 1427 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام بخاری (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com
- صحیح بخاری 6021 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام بخاری (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com
- صحیح بخاری 1423 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام بخاری (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com
- صحیح بخاری 2363 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام بخاری (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com
- صحیح مسلم 1631 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام مسلم (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com
مذکورہ آیات
﴿۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَـٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [9:60]مفہوم (ہمارے اپنے الفاظ میں): صدقات (یہاں: فرض زکوٰۃ) تو صرف فقیروں، مسکینوں، اس کے کام پر مقرر کارکنوں، ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے دل جوڑنے ہوں، گردنیں چھڑانے میں، قرض داروں کے لیے، اللہ کی راہ میں، اور مسافر کے لیے: یہ اللہ کی طرف سے مقرر فریضہ ہے، اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
﴿لَّا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَـٰرِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوٓا۟ إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ﴾ [60:8]مفہوم (ہمارے اپنے الفاظ میں): اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا؛ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
﴿وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ [76:8]مفہوم (ہمارے اپنے الفاظ میں): اور وہ کھانا، اپنی چاہت کے باوجود، مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلاتے ہیں۔
ماخذ
تصحیحات
- : پہلی اشاعت۔ غیر مسلم کی عطا کو صدقہ کہا گیا ہے، زکوٰۃ نہیں؛ احادیث صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے، درجے کے ساتھ اور مفہوم کی صورت میں۔