مستحقات · زکوٰۃ اور ملازمت کے واجبات کے کیلکولیٹر English العربية Bahasa Indonesia

زکوٰۃ کیلکولیٹر › سونے پر زکوٰۃ: ساڑھے سات تولے کا نصاب، قیراط اور زیور

سونے پر زکوٰۃ: ساڑھے سات تولے کا نصاب، قیراط اور زیور

تحریر سامی ادہم · اشاعت:

ہمارے گھروں میں سونا صرف دھات نہیں: یہ ماں کا دیا ہوا کنگن ہے، بیٹی کے جہیز کے لیے سنبھالا ہوا سیٹ، اور مشکل وقت کی بچت۔ اسی لیے سونے کی زکوٰۃ کا حساب دل سے بھی ہوتا ہے اور ترازو سے بھی۔ یہ رہنما ترازو والا حصہ آسان کرتا ہے، تولہ بہ تولہ۔

مختصر جواب: اپنا خالص سونا معلوم کریں (گرام × قیراط ÷ 24)۔ اگر یہ اکیلا، یا آپ کے باقی مال کے ساتھ مل کر، نصاب کو پہنچے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو زکوٰۃ کے دن کی قیمت کا 2.5% زکوٰۃ ہے۔ سونے کا نصاب 85 گرام خالص سونا ہے، اور برصغیر کی کتابوں میں ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام)۔ بچت کا سونا سب کے نزدیک شمار ہوتا ہے؛ پہنے جانے والا زیور احناف کے نزدیک شمار ہوتا ہے اور باقی تین مذاہب کے نزدیک نہیں۔

فوراً رقم جاننا چاہتے ہیں؟ ہمارا مفت زکوٰۃ کیلکولیٹر قیراط کا حساب خود کرتا ہے، روپوں میں تاریخ کے ساتھ حوالہ قیمت بھرتا ہے، اور زیور کے بارے میں دونوں آراء دکھاتا ہے۔

مرحلہ 1: خالص سونا معلوم کریں

زکوٰۃ چیز کے اندر موجود سونے پر ہے، چیز کے پورے وزن پر نہیں۔ وزن (گرام) کو قیراط سے ضرب دیں اور 24 پر تقسیم کریں۔ تولے میں وزن ہو تو پہلے 11.664 سے ضرب دے کر گرام بنا لیں۔

قیراطخالص سونے کا تناسبایک تولے (11.664 گرام) میں خالص سونا
24100%11.664 گرام
2291.67%10.692 گرام
2187.5%10.206 گرام
1875%8.748 گرام

نگینے سونا نہیں۔ صرف سونے کا وزن لیں یا اندازہ لگائیں۔ ہیرے، موتی اور دوسرے قیمتی پتھر شمار نہیں ہوتے، سوائے اس کے کہ وہ تجارت کے لیے ہوں (ابنِ قدامہ، المغنی)۔

مرحلہ 2: نصاب سے موازنہ

سونے کا نصاب 20 مثقال ہے، جسے عام طور پر 85 گرام خالص سونا لکھا جاتا ہے؛ برصغیر کی حنفی کتابوں میں اسے ساڑھے سات تولہ لکھا جاتا ہے، جو 87.48 گرام بنتا ہے۔ فرق تقریباً 3% کا ہے؛ اگر آپ کا سونا حد کے بالکل قریب ہو تو اپنے عالم سے پوچھیں کہ کون سا وزن لیں۔

اکثر لوگوں کے پاس سونے کے ساتھ کچھ نقدی بھی ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سونا اور چاندی (یا نقدی) دونوں ہوں تو احناف اور مالکیہ (اور حنابلہ کی ایک روایت) نصاب پورا کرنے کے لیے ان کی قیمتیں ملاتے ہیں؛ شافعیہ نہیں ملاتے۔ ہمارا کیلکولیٹر سونے کو آپ کے باقی مال کے ساتھ قیمت کے حساب سے جمع کرتا ہے اور سونے اور چاندی دونوں کا نصاب دکھاتا ہے، تاکہ آپ دونوں صورتوں میں اپنی جگہ دیکھ سکیں۔

مرحلہ 3: زکوٰۃ کے دن کی قیمت

حساب اس دن کی بازاری قیمت پر ہوتا ہے جس دن آپ کا زکوٰۃ کا سال پورا ہو، خرید کی پرانی قیمت پر نہیں۔ 29 اکتوبر 2026 کی عالمی حوالہ قیمت پر خالص سونا تقریباً 35,763 روپے فی گرام تھا، یعنی 85 گرام کا نصاب تقریباً 3,039,855 روپے۔ صرافہ بازار کی قیمت عموماً عالمی قیمت سے مختلف ہوتی ہے، اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ صراف خریدتے وقت کیا دیتا ہے اور بیچتے وقت کیا لیتا ہے؛ کون سی قیمت لیں، یہ اپنے عالم سے پوچھیں۔ کیلکولیٹر کی حوالہ قیمت ہر تازہ کاری پر بدلتی ہے اور اس کی تاریخ ہمیشہ لکھی ہوتی ہے؛ آپ کی درج کی ہوئی قیمت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔

پھر قیمت کا 2.5% نکالیں، یا خالص وزن کا چالیسواں حصہ: 40 گرام خالص سونے پر زکوٰۃ 1 گرام ہے۔

ابھی حساب کریں۔ وزن اور قیراط زکوٰۃ کیلکولیٹر میں لکھیں: وہ زیور شامل کر کے اور زیور کے بغیر، دونوں نتیجے ساتھ ساتھ دکھاتا ہے۔ کچھ بھی آپ کے فون یا کمپیوٹر سے باہر نہیں جاتا۔

پہنے جانے والا زیور: چاروں مذاہب

سونا جو…حنفیمالکی، شافعی، حنبلی
بچت کے طور پر رکھا ہو (بسکٹ، سکے، نہ پہنا جانے والا زیور)شمارشمار
تجارت کے لیے ہوشمارشمار
جائز زیور جو معمول کے مطابق پہنا جاتا ہوشمارشمار نہیں

ہر رائے کے اپنے دلائل اور بڑے علما ہیں؛ ہم انتخاب نہیں کرتے۔ برصغیر میں اکثر لوگ حنفی فقہ پر عمل کرتے ہیں، جس میں زیور شمار ہوتا ہے۔ ایک اور بات: زکوٰۃ مالک پر ہے۔ جو زیور بیوی کی ملکیت ہے اس کا حساب اسی کے مال میں ہوگا، اور جو بیٹی کے نام ہو چکا وہ اس کے مال میں۔ واجب سے زیادہ دینا صدقہ ہے، اور وہ کبھی رائیگاں نہیں۔

حساب کی مثال (ہمارے اپنے اعداد، 29 اکتوبر 2026 کی حوالہ قیمت کے قریب، صرف سونا، کوئی اور مال نہیں):

  • روزانہ پہنا جانے والا زیور: 50 گرام، 21 قیراط = 50 × 21 ÷ 24 = 43.75 گرام خالص۔
  • بچت کا سونا: 4 تولہ، 24 قیراط = 4 × 11.664 = 46.656 گرام خالص۔

حنفی: 43.75 + 46.656 = 90.406 گرام خالص، جو 85 گرام اور ساڑھے سات تولے (87.48 گرام) دونوں سے زیادہ ہے۔ قیمت 90.406 × 35,763 = 3,233,190 روپے؛ زکوٰۃ 3,233,190 ÷ 40 = تقریباً 80,830 روپے (یا تقریباً 2.26 گرام خالص سونا)۔

مالکی، شافعی، حنبلی: صرف بچت کا سونا شمار ہوگا، 46.656 گرام خالص، جو نصاب سے کم ہے۔ کوئی اور مال نہ ہو تو اس سونے پر ابھی زکوٰۃ نہیں۔ اگر نقدی بھی ہو تو نتیجہ بدل سکتا ہے۔

سونے اور چاندی میں حق کیوں ہے

قرآن ان لوگوں کو تنبیہ کرتا ہے جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (التوبہ 9:34-35)۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وضاحت کی کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے وہ اس آیت والا «کنز» نہیں (صحیح بخاری 1404، ان کے اپنے قول کے طور پر)۔ الماری اور لاکر حساب سے باہر نہیں: ان میں رکھی چیز کا ایک حصہ کسی اور کا حق ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خود حساب کریں

تولیں، بدلیں، قیمت لگائیں: زکوٰۃ کیلکولیٹر یہ تینوں کام ایک جگہ کرتا ہے، روپوں میں یا کسی اور کرنسی میں۔ پھر اپنی زکوٰۃ براہِ راست کسی سرکاری یا معتبر ادارے کو، یا خود مستحقین کو دیں۔

براہِ کرم نوٹ کریں

یہ مضمون سونے پر زکوٰۃ کو عام معلومات کے لیے بیان کرتا ہے۔ یہ فتویٰ نہیں۔ اپنے حالات کے لیے کسی معتبر عالم یا اپنے ملک کے سرکاری زکوٰۃ ادارے سے پوچھیں۔ مستحقات نہ زکوٰۃ جمع کرتا ہے نہ صدقہ، اور نہ انہیں آگے پہنچاتا ہے۔

مذکورہ ماخذ سے مرتب کیا گیا؛ اپنے معاملے میں کسی ایسے عالم سے پوچھیں جن پر آپ کو اعتماد ہو۔ یہ فتویٰ نہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھا گیا اور درج ماخذ سے جانچا گیا۔ سامی ادہم ایک پیشہ ورانہ نام ہے؛ وہ عالم یا مفتی نہیں۔

مذکورہ احادیث

  • صحیح بخاری 1404 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام بخاری (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com

ماخذ

تصحیحات

  • : پہلی اشاعت۔ مثال 29 اکتوبر 2026 کی حوالہ قیمت پر؛ حضرت ابنِ عمر کی وضاحت (صحیح بخاری 1404) درجے اور درجہ دینے والے کے نام کے ساتھ۔

یہ مضمون شیئر کریں

لنک: https://mustahaqat.com/ur/blog/sone-par-zakat

WhatsApp Telegram ای میل