مستحقات · زکوٰۃ اور ملازمت کے واجبات کے کیلکولیٹر English العربية Bahasa Indonesia

زکوٰۃ کیلکولیٹر › زکوٰۃ کا حساب کیسے کریں، قدم بہ قدم

زکوٰۃ کا حساب کیسے کریں، قدم بہ قدم

تحریر سامی ادہم · اشاعت:

زکوٰۃ کا حساب سننے میں مشکل لگتا ہے، مگر اصل میں یہ سال میں ایک بار اپنے مال کا دیانت دارانہ جائزہ ہے: کیا میرے پاس ہے، کیا مجھ پر ہے، اور کیا اس میں کسی اور کا حق ہے۔ یہ رہنما آپ کے ساتھ یہ حساب پانچ مرحلوں میں کرتا ہے۔

مختصر جواب: ایک تاریخ مقرر کریں۔ اس دن اپنا قابلِ زکوٰۃ مال جمع کریں (نقدی، بینک بیلنس، سونا چاندی، تجارتی مال، حصص)، اگلے 12 مہینوں کے واجب الادا قرض منہا کریں، اور باقی کا نصاب سے موازنہ کریں۔ اگر مال نصاب کو پہنچ گیا ہو اور اس پر ایک قمری سال گزر چکا ہو تو 2.5% (چالیسواں حصہ) زکوٰۃ ہے۔

اعداد ابھی دیکھنا چاہتے ہیں؟ ہمارا مفت زکوٰۃ کیلکولیٹر روپوں میں حوالہ قیمتیں خود بھرتا ہے اور دونوں نصاب ساتھ ساتھ دکھاتا ہے۔

مرحلہ 1: اپنی زکوٰۃ کی تاریخ

زکوٰۃ اس مال پر ہے جو نصاب سے اوپر رہتے ہوئے ایک پورا قمری سال گزار لے۔ اس لیے ایک قمری تاریخ مقرر کر لیں، جیسے وہ دن جب آپ کا مال پہلی بار نصاب کو پہنچا، اور ہر سال اسی دن حساب کریں۔ بہت سے لوگ رمضان کو چنتے ہیں؛ یہ آسان ہے، بس ہر سال ایک ہی تاریخ رکھیں۔ قمری سال شمسی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔

مرحلہ 2: جو کچھ آپ کی ملکیت ہے

شمار نہیں ہوتے: رہائشی مکان، اپنی گاڑی، گھریلو سامان اور کام کے اوزار؛ ملازمت ختم ہونے کی وہ رقم جو ابھی ملی نہیں؛ اور وہ پنشن جو ابھی نکلوائی نہیں جا سکتی (قرارداد 143 (1/16)، دبئی 2005)۔ بینک کا سود زکوٰۃ نہیں؛ علما اسے رفاہِ عامہ میں دینے کو کہتے ہیں۔

تنخواہ کا کیا؟ چاروں مذاہب کے مطابق تنخواہ ملتے ہی اس پر زکوٰۃ نہیں؛ جو اس میں سے بچ جائے وہ آپ کے مال میں شامل ہو جاتا ہے اور زکوٰۃ کی تاریخ پر شمار ہوتا ہے۔ احناف سال کے دوران آنے والی نئی رقم کو موجود مال کے ساتھ ملا کر اسی تاریخ پر حساب کرتے ہیں۔ بعض معاصر علما (یوسف القرضاوی، فقہ الزکاۃ) آمدنی ملنے پر زکوٰۃ کی رائے رکھتے ہیں؛ اپنے عالم سے پوچھیں۔

مرحلہ 3: جو آپ پر واجب ہے

اگلے 12 مہینوں میں واجب الادا قرض، جیسے اس سال کی قسطیں اور واجب الادا بل، منہا کریں؛ پورے ہوم لون کا باقی بقایا نہیں۔ یہ ایک معاصر رائے ہے۔ قرض کے بارے میں مذاہب مختلف ہیں: احناف قرض کو مال سے منہا کرتے ہیں؛ مالکیہ اسے نقدی سے منہا کرتے ہیں مگر مویشی اور فصل سے نہیں (خلیل، المختصر)؛ شافعیہ کا جدید قول یہ ہے کہ قرض زکوٰۃ کو نہیں روکتا۔ اپنے عالم سے پوچھیں۔

مرحلہ 4: نصاب سے موازنہ

نصاب وہ کم سے کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ آج کل اس کی دو صورتیں عام ہیں:

چاندی کا نصاب کم ہے اور بہت سے علما اسے غریبوں کے لیے زیادہ مفید سمجھتے ہیں؛ بہت سے معاصر علما سونے کا نصاب لیتے ہیں۔ ہمارا کیلکولیٹر دونوں دکھاتا ہے؛ کس پر عمل کریں، یہ اپنے عالم سے پوچھیں۔

ابھی حساب کریں۔ اپنے اعداد زکوٰۃ کیلکولیٹر میں لکھیں: وہ سونے اور چاندی دونوں کے نصاب پر نتیجہ ساتھ ساتھ دکھاتا ہے۔ کوئی عدد آپ کے فون یا کمپیوٹر سے باہر نہیں جاتا۔

مرحلہ 5: 2.5% نکالیں

اگر خالص مال نصاب کو پہنچ گیا ہو تو اسے 40 پر تقسیم کریں، یا 2.5% سے ضرب دیں۔ یہی آپ کی زکوٰۃ ہے۔

حساب کی مثال (ہمارے اپنے اعداد، 29 اکتوبر 2026 کی عالمی حوالہ قیمت کے قریب، گول کر کے: سونا 35,763 روپے فی گرام، چاندی 468 روپے فی گرام):

  • بینک میں بچت: 800,000 روپے؛ گھر میں نقدی: 50,000 روپے۔
  • بچت کا سونا: 3 تولہ، 24 قیراط = 34.992 گرام × 35,763 = 1,251,419 روپے۔
  • اگلے 12 مہینوں کی قسطیں: 150,000 روپے۔

کل: 800,000 + 50,000 + 1,251,419 = 2,101,419 روپے۔ قرض کے بعد: 1,951,419 روپے۔

چاندی کے نصاب پر (595 × 468 = 278,460 روپے): نصاب پورا ہے، زکوٰۃ 1,951,419 ÷ 40 = تقریباً 48,785 روپے۔
سونے کے نصاب پر (85 × 35,763 = 3,039,855 روپے): نصاب سے کم، کچھ نہیں۔

یہ مثال کی قیمتیں ہیں؛ کیلکولیٹر کی حوالہ قیمت ہر بار سائٹ کی تازہ کاری پر بدلتی ہے اور اس کی تاریخ ہمیشہ لکھی ہوتی ہے۔ آج کی قیمت خود درج کریں۔

پاکستان میں بینک کٹوتی: آپ کے حساب پر اس کا اثر

پاکستان میں بینک یکم رمضان کو سیونگ، پی ایل ایس اور ان جیسے کھاتوں سے زکوٰۃ کاٹتے ہیں، اگر بیلنس سرکاری حد سے اوپر ہو؛ 1446-1447ھ کے لیے یہ حد 503,529 روپے مقرر ہوئی (وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کا خط، 16 فروری 2026، اسٹیٹ بینک کے ذریعے جاری)۔ یہ کٹوتی صرف انہی کھاتوں پر ہوتی ہے؛ سونا، نقدی اور کاروبار کا حساب آپ کو خود کرنا ہے۔ کٹی ہوئی رقم آپ کی زکوٰۃ میں کس حد تک شمار ہو، اس میں علما کی آراء مختلف ہیں۔ پوری وضاحت اور فارم CZ-50 کے لیے کیلکولیٹر کے صفحے کا یہ حصہ دیکھیں۔

زکوٰۃ کیوں: پاکیزگی بھی، بڑھوتری بھی

قرآن زکوٰۃ کو مال کی پاکیزگی اور بڑھوتری کہتا ہے (التوبہ 9:103، نیچے آیت اور اس کا مفہوم)۔ جب نبی ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے، کہ زکوٰۃ مالداروں سے لے کر انہی کے فقیروں کو لوٹائی جائے (صحیح بخاری 1395؛ صحیح مسلم 19)۔ یہ احسان نہیں، حق ہے؛ «مستحقات» کا مطلب بھی یہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خود حساب کریں

تاریخ، مال، قرض، نصاب، اور 2.5%: زکوٰۃ کیلکولیٹر یہ پانچوں مرحلے ایک جگہ کرتا ہے، روپوں میں یا کسی اور کرنسی میں۔ پھر اپنی زکوٰۃ براہِ راست کسی سرکاری یا معتبر ادارے کو، یا خود مستحقین کو دیں۔

براہِ کرم نوٹ کریں

یہ مضمون زکوٰۃ کے حساب کو عام معلومات کے لیے بیان کرتا ہے۔ یہ فتویٰ نہیں۔ اپنے حالات کے لیے کسی معتبر عالم یا اپنے ملک کے سرکاری زکوٰۃ ادارے سے پوچھیں۔ مستحقات نہ زکوٰۃ جمع کرتا ہے نہ صدقہ، اور نہ انہیں آگے پہنچاتا ہے۔

مذکورہ ماخذ سے مرتب کیا گیا؛ اپنے معاملے میں کسی ایسے عالم سے پوچھیں جن پر آپ کو اعتماد ہو۔ یہ فتویٰ نہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھا گیا اور درج ماخذ سے جانچا گیا۔ سامی ادہم ایک پیشہ ورانہ نام ہے؛ وہ عالم یا مفتی نہیں۔

مذکورہ احادیث

  • صحیح بخاری 1395 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام بخاری (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com
  • صحیح مسلم 19 (نمبر شماری sunnah.com), درجہ صحیح بقول امام مسلم (اپنی صحیح میں درج کر کے). sunnah.com

مذکورہ آیات

﴿خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ [9:103]

مفہوم (ہمارے اپنے الفاظ میں): ان کے مالوں میں سے صدقہ (یہاں: زکوٰۃ) لیجیے جس سے آپ انہیں پاک کریں اور ان (کی نیکیوں) کو بڑھائیں، اور ان کے لیے دعا کیجیے؛ بے شک آپ کی دعا ان کے لیے سکون ہے، اور اللہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔

Quran text: Tanzil Quran Text, Copyright (C) 2007-2021 Tanzil Project, License: Creative Commons Attribution 3.0. Copied verbatim; changing it is not allowed. Updates: tanzil.net.

ماخذ

تصحیحات

  • : پہلی اشاعت۔ فقہی الفاظ ہمارے ماخذ کے جائزے کے مطابق؛ مثال 29 اکتوبر 2026 کی حوالہ قیمتوں پر؛ پاکستان کا نصابِ کٹوتی اسی دن اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر پڑھا گیا۔

یہ مضمون شیئر کریں

لنک: https://mustahaqat.com/ur/blog/zakat-ka-hisab

WhatsApp Telegram ای میل